یہ کیسی خوشی ہے!!!
اپنے آپ کو خوشی دینا انسان کو ہر چیز سے محبوب ہوتا ہے۔کبھی ایک تتلی پکڑ کر تو کبھی برسات میں بھیگ کرخوشی حاصل کرتا ہے،کبھی کسی باغیچے سے پھول توڑ کر تو کبھی راستے سے کانٹے ہٹا کر خوشی کو دعوت دیتا ہے،کبھی کبھی چودویں رات کے چاند کو دیکھ کر انسان کے اندر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہےسرد موسم میں سورج کی کرنیں انسان کوزندگی کی طرف رواں دواں کرتی ہیں کبھی کسی بہتی ہوئی ندی کے کنارے پتھر پھینکنے سے ہم کھلکھلا کر ہنستے ہیں۔پنجرے میں بند کبوتر کو آزاد فضاؤں میں چھوڑ کربھی بہت خوشی ہوتی ہے۔فطرت کے دلکش مناظر بہت سے پر سوز دلوں کو زندگی کی رونق میں اپنا حصہ ڈالنے اور مسکراہٹیں بکھیرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جہاں تک اپنے آپ کو شاد ماں رکھنے کا تعلق ہے تو ہم کسی بوڑھے ناتواں کو راستہ دکھانے سے تسکین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی راہ بھٹکے کو منزل کا نشان دے کر بھی دل کو بہت قرار آتا ہے۔اپنے پیاروں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر کےاپنے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں۔ وہ گھر جہاں امن ،پیارومحبت اور سکون ملتا ہے۔جب ہر شخص محنت ،ایمانداری اور عدل سے کام کرے گا تو کسی کا حق غصب نہیں ہوگا ہر جان مطمئن ،مسرور اور خوشحال ہوگی۔ ہر گھرجنت ہو گا۔ جب ہر گھر جنت ہو گا تو پورا ملک جنت بن جائے گا۔ہر فرد کو پریشانیوں اور فکروں سے آزاد زندگی میسر آئے گی۔ ہر قلب خوش ہوگا۔ خوشیاں اگر اتنی آسانی سے مل جاتی ہیں تو پھر ہم سب مشکلات میں کیوں گرے ہوئے ہیں ۔ کیوں ہم اپنی خوشی کے نام پر ناجائز ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا کر اپنی روحوں کو چھلنی کر رہے ہیں ۔ جب خوشی ایک پھول توڑنے سے مل جاتی تو کیوں سر سبز وادیوں کو بارود سے راکھ بنایا جا رہا ہے۔خوشی تو ایک تتلی پکڑنے سے بھی مل جاتی ہے تو پھر کیوں ہزاروں جانیں سرِ بازار تڑپ رہی ہیں ۔یہ کیسی خوشی ہے؟ کہ جس کے لئے خون کے دریا بہائے جارہے ہیں۔یہ کون لوگ ہیں جو ایسے ظالمانہ طریقوں سے خوشیاں سمیٹتے ہیں، معصوم اور بے بس لوگوں کے آشیانے جلا کر اپنے محلوں میں کس قدر آرام سے جیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خوشی کا معیار اتنا اونچا کیوں ہے؟ یہ اپنے دور کے فرعون اور قارون ہیں جو عوام کے خزانوں پر ناگ بنے بیٹھے ہیں۔اور عوام کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو معصوم لوگوں کو جرائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی خوشیوں کا معیار گرانا ہو گا تاکہ اور بہت سی خوشیاں تباہ ہونے سے بچ جائیں ورنہ دوسری صورت میں ایک ایسے دن کا انتظار کریں جب ان پر ذلت اور مسکینی چھا رہی ہو گی اور کوئی ان کا مدد گار نہ ہو گا۔