یہ کیسی خوشی ہے!!!
امِ ایمن نے اتوار، 5 دسمبر 2010 کو شائع کیا.

اپنے آپ کو خوشی دینا انسان کو ہر چیز سے محبوب ہوتا ہے۔کبھی ایک تتلی پکڑ کر تو کبھی برسات میں بھیگ کرخوشی حاصل کرتا ہے،کبھی کسی باغیچے سے پھول توڑ کر تو کبھی راستے سے کانٹے ہٹا کر خوشی کو دعوت دیتا ہے،کبھی کبھی چودویں رات کے چاند کو دیکھ کر انسان کے اندر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہےسرد موسم میں سورج کی کرنیں انسان کوزندگی کی طرف رواں دواں کرتی ہیں کبھی کسی بہتی ہوئی ندی کے کنارے پتھر پھینکنے سے ہم کھلکھلا کر ہنستے ہیں۔پنجرے میں بند کبوتر کو آزاد فضاؤں میں چھوڑ کربھی بہت خوشی ہوتی ہے۔فطرت کے دلکش مناظر بہت سے پر سوز دلوں کو زندگی کی رونق میں اپنا حصہ ڈالنے اور مسکراہٹیں بکھیرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ جہاں تک اپنے آپ کو شاد ماں رکھنے کا تعلق ہے تو ہم کسی بوڑھے ناتواں کو راستہ دکھانے سے تسکین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی راہ بھٹکے کو منزل کا نشان دے کر بھی دل کو بہت قرار آتا ہے۔اپنے پیاروں کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو پورا کر کےاپنے گھر کو جنت بنا سکتے ہیں۔ وہ گھر جہاں امن ،پیارومحبت اور سکون ملتا ہے۔جب ہر شخص محنت ،ایمانداری اور عدل سے کام کرے گا تو کسی کا حق غصب نہیں ہوگا ہر جان مطمئن ،مسرور اور خوشحال ہوگی۔ ہر گھرجنت ہو گا۔ جب ہر گھر جنت ہو گا تو پورا ملک جنت بن جائے گا۔ہر فرد کو پریشانیوں اور فکروں سے آزاد زندگی میسر آئے گی۔ ہر قلب خوش ہوگا۔ خوشیاں اگر اتنی آسانی سے مل جاتی ہیں تو پھر ہم سب مشکلات میں کیوں گرے ہوئے ہیں ۔ کیوں ہم اپنی خوشی کے نام پر ناجائز ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا کر اپنی روحوں کو چھلنی کر رہے ہیں ۔ جب خوشی ایک پھول توڑنے سے مل جاتی تو کیوں سر سبز وادیوں کو بارود سے راکھ بنایا جا رہا ہے۔خوشی تو ایک تتلی پکڑنے سے بھی مل جاتی ہے تو پھر کیوں ہزاروں جانیں سرِ بازار تڑپ رہی ہیں ۔یہ کیسی خوشی ہے؟ کہ جس کے لئے خون کے دریا بہائے جارہے ہیں۔یہ کون لوگ ہیں جو ایسے ظالمانہ طریقوں سے خوشیاں سمیٹتے ہیں، معصوم اور بے بس لوگوں کے آشیانے جلا کر اپنے محلوں میں کس قدر آرام سے جیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خوشی کا معیار اتنا اونچا کیوں ہے؟ یہ اپنے دور کے فرعون اور قارون ہیں جو عوام کے خزانوں پر ناگ بنے بیٹھے ہیں۔اور عوام کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو معصوم لوگوں کو جرائم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنی خوشیوں کا معیار گرانا ہو گا تاکہ اور بہت سی خوشیاں تباہ ہونے سے بچ جائیں ورنہ دوسری صورت میں ایک ایسے دن کا انتظار کریں جب ان پر ذلت اور مسکینی چھا رہی ہو گی اور کوئی ان کا مدد گار نہ ہو گا۔


ٹیگز:-
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
امِ ایمن نے سوموار، 15 نومبر 2010 کو شائع کیا.

1999 میں دنیا کے عظیم ممالک کا ایک گروپ بنا جن کا مقصد بین الاقوامی اقتصادی ترقی ہے۔یہ گروپ 20 ممالک پر مشتمل ہے جن میں ساؤتھ افریقہ،کینیڈا،میکسیکو،امریکہ،ارجینٹینا،برازیل،چین،جاپان،ساؤتھ کوریا،انڈیا،انڈونیشیا،سعودی عرب،روس،ترکی، فرانس،جرمنی،اٹلی،برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ جی ٹونٹی کی  اب تک پانچ کانفرنسیں  ہوچکی ہیں۔حال ہی میں جی ٹونٹی کی پانچویں کانفرنس  11 نومبر  2010 میں ساؤتھ کوریا میں ہوئی ہے۔جو کہ دوسری [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
سکون کی تلاش
امِ ایمن نے منگل، 26 اکتوبر 2010 کو شائع کیا.

روز اول سے ہی انسان اپنے مقصد حیات سے دور رہا ہے۔وہ اس عارضی زندگی کی رعنائیوں میں کھو کرسب کچھ بھلا دیتا ہے۔آسائشوں کے حصول کے لئے انسان اپناسکون ،وقت اورمال ودولت لٹانے کے لئے تیار رہتا ہے۔لیکن یہ آسائشیں عارضی ہیں یہ کوئی نہیں سوچتا۔ہم زندگی کی حقیقت کو کیوں نہیں سمجھتے؟ ہم [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
!اےہمارے اللہ
امِ ایمن نے منگل، 7 ستمبر 2010 کو شائع کیا.

 اے اللہ ! ہم تیرے گنہگار بندے تیرے در پہ اپنے گناہوں کے بوجھ لے کر آئے ہیں۔ ہمیں معاف فرما دے اور اپنی رحمت میں ڈھانپ لے ہم شرمندہ تو بہت ہیں لیکن تونے خود کہا ہوا ہے قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطو من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
نظم
امِ ایمن نے جمعرات، 2 ستمبر 2010 کو شائع کیا.

حسن رضوی کی ایک نظم جو  کہ اب کے حالات کی ترجمانی کر رہی ہے۔ یہ زندگی بلا ہے ہر شخص چیختا ہے برسے لہو فلک سے دھرتی کو کیا ہوا ہے یہ دیس گلشنوں کا پتھر سا بن رہا ہے جو خون بیچتا ےتھا  وہ شخص مر گیا ہے کیا چیز ڈھونڈتا ہوں کچھ [...]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
قیمے کے پراٹھے
امِ ایمن نے جمعرات، 2 ستمبر 2010 کو شائع کیا.
انسانی حقوق
امِ ایمن نے جمعرات، 2 ستمبر 2010 کو شائع کیا.
دیر آید درست آید
امِ ایمن نے بدھ، 1 ستمبر 2010 کو شائع کیا.
آلو اور دال کے پراٹھے
امِ ایمن نے بدھ، 1 ستمبر 2010 کو شائع کیا.
ہم نے پاکستان کو کیا دیا
امِ ایمن نے سوموار، 30 اگست 2010 کو شائع کیا.